• شماره ركورد كنفرانس
    5564
  • عنوان مقاله

    تشكيل خاندان كي اہميت،انتخاب ہمسر كا معيار اور فضائے مجازي

  • پديدآورندگان

    انصاري غلام مرتضي gmansari61@gmail.com جامعه المصطفي العالميه

  • تعداد صفحه
    29
  • كليدواژه
    خاندان , فضائے مجازي , ہمسر , محبت , اخلاق و كردار۔
  • سال انتشار
    1400
  • عنوان كنفرانس
    دين، دين داري و فضاي مجازي
  • زبان مدرك
    فارسي
  • چكيده فارسي
    اسلامي نقطہ نگاہ سےشادي كي بنيادسے بڑھ كر زيادہ پسنديدہ بنياد نہيں ڈالي گئي،كيونكہ شادي كي بنيادعشق و محبت كي بنياد ہے،اس لئے رسول خدا ؐنے فرمايا:جو جوان اپني نوجواني ميں شادي كرتا ہے تو شيطان چيخ چيخ كر واويلا كرتا ہے اور كہتا ہے :اس نے مجھ سے اپنا دين كا ۳/۲ حصہ محفوظ كرليا،پس اس بندہ كو چاہئے باقي تيسرے حصہ كو بچانے كے لئے اللہ سے ڈرے۔اسي اہميت كے پيش نظر امام موسي كاظمؑ فرماتے ہيں اگر ايك مسلمان اپنے مسلمان بھائي كي شادي كا بندوبست كرے تو وہ عرش الہي كے سائے ميں ہوگا۔رسول خداؐ نے فرمايا:اللہ تعاليٰ اس كے عقد ميں ايك ہزار حوريہ عطا كرے گاجو ايك ہزارايسے قصر ميں ہونگي جو ياقوت اور موتيوں سے مزين ہونگے،اور اس شخص كے لئے ہر قدم اور ہربات كے بدلے ميں ايك سال كي عبادت (قائم الليل اور صائم النہار)كا ثواب عطا كرتا ہے۔ خاندان كي بنياد،عشق و محبت پر ركھني چاہئے كيونكہ محبت كا اظہار مياں بيوي كے درميان آرام و سكون كا باعث بنتاہے۔لہذاخانداني خوشبختي كےلئےان باتوں كا خيال ركھنا ضروري ہے:سلام كرنا،نظم و ضبط،اعتماد كرنا اور تہمت سے بچنا،پاكيزگي اور خوبصورتي،اچھي گفتگو كرنا ،عزت اور غمخواري كا احساس دلانا،ہرگز نااميد نہ ہونا،اچھےاخلاق كا مالك بننا،وغيرہ۔ بيوي كا انتخاب كيسے كيا جائے؟ بيوي كا انتخاب كرنے كا معيار اس كي دينداري، ايمان اور تقوي ، اخلاق، اور جسماني سلامتي،اورخانداني نجابت كي صفات ہيں۔امام رضا ؑ نےفرمايا:بداخلاق كو رشتہ نہ دو ،كيونكہ خوش اخلاقي ہر انسان كي زينت ہے، جس ميں بھي يہ صفت پائي جائے وہ تمام انساني اور اخلاقي كمالات جيسے تواضع، انكساري،سچائي،مہرباني،نرم مزاجي،سخاوت ،ادب ،نرم مزاجي اور وفاداري كا مالك ہوتا ہے ،اسي لئے رسول خدا ؐ كا فرمان ہے كہ اچھے اخلاق والي عورت سے شادي كرو ،خبردار! بيوي بد سيرت، بے وقوف،خضراء الدمن،بانجھ،اوربوڑھي نه هو۔ اب سوال يہ ہے كہ فضائے مجازي پر جو جوان لڑكے اور لڑكياں اپنے لئے ہمسر تلاش كرتے كرتےجھوٹي عشق و محبت كا اظہار كركے اپنے مقاصد حاصل كرنے والوں كے فريب آجاتے ہيں اور اپني عزت اور خاندان كي عزت كو داؤ پر لگانےكے بعد پچھتانے لگتے ہيں، ايسے ميں اللہ ، اس كے رسولؐ اور ائمہ طاہرينؑ كے فرامين اور سفارشات پر عمل كرنا تو دور كي بات ، ان اوصاف اور معيارات كے بارے ميں سوچ بھي نہيں سكتے۔اوراس كا نتيجہ بھي واضح ہے كہ ان فريب خوردہ جوان اور نوجوان لڑكے اور لڑكيوں كي زندگي بھي جہنم ميں تبديل ہوجاتي ہے اور ساري زندگي پچھتاوے اور افسوس كرنے ميں گزر جاتي ہے۔ بہت سارے نوجوانوں پرفضائے مجازي اور انٹرنيٹ نے اس قدر اثر چھوڑا ہے كہ وہ خودكشي كر كے اپني جان كي بازي ہارچكے ہيں ،يا اپنے گھر بار كو چھوڑ كر فرار ہوگئے ہيں، اپنے اصل اہداف جيسے تعليم اور زندگي كے ديگر كاموں سے كوسوں دور ہوچكے ہيں جو بہت ہي خطرناك ہے۔ والدين اور اساتيد كو چاہئے كہ جتنا ممكن ہو سكے نوجوانوں كو ايسے ميں صحيح راستے پر گامزن ركھنے كے لئے كوشش كريں اور آنے والي نسلوں گمراہي سے بچائيں۔
  • كشور
    ايران